اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ بحرین کی انسانی حقوق کی تنظیم کے سربراہ یوسف ربیع نے المیادین ٹی وی چینل کو دئے گئے اپنے ایک انٹرویو کے دوران چند روز قبل آل خلیفہ کی جیل میں شہید ہونے والے ۲۰ سالہ جوان شہید حسین مھدی حبیب کے بارے میں کہا: ہم شہید حسین مھدی پر ہوئے ظلم کے سلسلے میں خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ حکومت نے اس کے قتل کے حوالے سے جو دعویٰ کیا ہے وہ ہماری نظر میں مشکوک ہے۔ سکیورٹی فورسز اس کے پیچھے تھے اور عدالت نے اسے ۱۵ سال جیل کی سزا سنائی تھی۔ربیع نے مزید کہا: اس ملک میں صرف آل خلیفہ کے مزدوروں کے پاس اسلحہ ہے لہذا اس کو لگی گولیوں کا ہمیں جواب دیں۔ وزارت داخلہ حسین مھدی کے قتل کے بارے میں وضاحت پیش کرے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ہم نے اس کے قاتلین کو گرفتار کر لیا ہے۔ لیکن ہمیں خوف اس بات کا ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت ایسے افراد کے پیچھے ہے جن کے بارے میں عدالتوں نے جیل کی سزاوں کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔بحرین کی انسانی حقوق کی تنظیم کے سربراہ نے تاکید کی: آل خلیفہ کی حکومت کئی عرصے سے ایسے لوگوں کو ان کاموں کے لیے استعمال کر رہی ہے جو سیکیورٹی فورسز میں تو نہیں ہیں لیکن ان سے وابستہ ہیں۔ ہم ان لوگوں کے بارے میں منصفانہ مقدمہ کی سماعت چاہتے ہیں جو حسین مھدی کے قتل میں ملوس ہیں۔ایک انقلابی معلم اسکول کی نوکری سے معطلادھر آل خلیفہ کی حکومت کے مزدوروں نے بحرینی اسکول کے ایک معلم عبد الرضا محسن زہیر کو اسکول کی نوکری سے معطل کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس ملک کی وزارت تعلیم نے عبد الرضا محسن زہیر کو ہائی اسکینٹری اسکول میں کلاس لینے سے روک دیا ہے جس میں وہ پہلے پڑھاتے تھے۔جمعیت الوفاق کے مطابق حکومت کا یہ اقدام عوام سے انتقام لینے کی خاطر ہے اس لیے کہ بحرین کی ڈکٹیٹر حکومت عام لوگوں پر اپنا دباو بڑھانے کی غرض سے انقلابیوں سے انتقام لینے کے لیے ایسی کاروائیاں کرتی رہتی ہے۔قاتل کی سزا میں کمی، عوام پر دباو میں اضافہالعالم کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی ایک عدالت نے قاتل کی طرف سے اپنے جرم کا اعتراف کئے جانے کے باوجود اس کی سزا میں ۴ سال کی کمی واقع کر دی ہے۔بحرین کی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال ۲۱ جنوری کو اس سپاہی کو ۷ سال جیل کی سزا کا حکم سنایا تھا اور مجرم نے یہ اعتراف کیا تھا کہ اس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے براہ راست’’ علی مشیمع‘‘ کو گولی مار دی تھی مجرم کے اعتراف کے باوجود آج ایک بحرینی عدالت نے اس کی سزا کو کم کرتے ہوئے تیس سال کر دیا ہے۔ادھر جزیرہ سترہ میں ہزاروں بحرینیوں نے شہید حسین مھدی کا تشییع جنازہ کیا جسے آل خلیفہ کی حکومت سے وابستہ مشتبہ افراد نے گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔تشییع جنازہ کے مراسم میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور حکومت مخالف نعرے لگا کر شہنشاہی حکومت کے مظالم برملا کئے۔بحرین کی جیلوں میں حد سے زیادہ بھیڑالعالم کی رپورٹ کے مطابق ۱۴ فروری ۲۰۱۱ سے لے کر اب تک بحرین کی شاہی حکومت نے اس قدر بے گناہ عوام کو جیلوں میں بند کر دیا ہے کہ اب جیلوں میں سانس لینے کی جگہ بھی باقی نہیں بچی ہے۔اطلاعات کے مطابق قید خانوں میں لوگوں کو تین تین برابر گھسایا ہے اور قیدیوں کو سانس لینے کی مشکل ہو رہی ہے۔جمعیت الوفاق کے شعبہ حقوق بشر کے سربراہ نے لبنان کے السفیر نیوز پیپر کو انٹرویو میں کہا ہے بحرینی حکومت کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں کو اس بات کی اجازت دینا چاہیے کہ وہ بحرین کی جیلوں کو چیک کریں اور دیکھیں کہ بحرین کی جیلوں میں کس قدر قیدیوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
20 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 474358
آل خلیفہ کی حکومت کئی عرصے سے ایسے افراد کو ان کاموں کے لیے استعمال کر رہی ہے جو سیکیورٹی فورسز میں تو نہیں ہیں لیکن ان سے وابستہ ہیں۔